Jump to content
Sign in to follow this  
Guest

HAQEEQAT E JIBRAÍEL a.s. .. HADEES E KISA me JIBRAÍEL .. KAISAY ?

Recommended Posts

Guest

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم و ھوُالعظیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر فقیر تحفہؑ یاعلی علیہ السّلام مدد 
وَ اَلسّلامُ علیکمُ ورحمۃُ اللہ و برکاۃ 
۔
ایک بھائ نے پوچھا ھے کہ حدیث کساء میں حضرت جبرائیل علیہ السّلام کا تحت الکساء آنا انکی سمجھ میں نہیں آتا ؟؟
اور اسکے لیئے جو دلیل قائم کی گئ ھے وہ حضرت آدم علیہ السّلام کی ھے جو کہ مسجوُد ملائکہ ھیں جب انکو اجازت نہین ملی ان ذوّات مقدّسہ علیہم السّلام کے تقرّب کی تو پھر جبرائیل علیہ السّلام کو کیسے اجازت مل گئ ؟؟
اور یہ یقینناً ۔۔
وہ مُحبّت ھے جو ان سوال کرنے والوں کی بلا شرکت غیرے صرف اور صرف ھادیان برحق و منصُوص مِن اللہ ، حُجت خُدا " معصُومین علیہمُ السّلام " کیلیئے ھے ۔۔۔۔۔
جو اس انتہا پر ھے کہ اسکا تقاضا بن گیا ھے کہ ان ذوّات مقدّسہ کے برابر کسی کو بھی برداشت نہیں کرتی ۔۔ 
جو کہ قابلِ ستائش ھے 
لیکن کچھ باتیں ھمیں ھمیشہؑ ذھن میں رکھنی چاھئیں 
جن میں سے سب سے پہلی اور سب سے اھم بات یہ ھے کہ ۔۔۔ 
۔
" یہ ھادیانِ برحق ، حُجج اللہ علی الخلق جو ھمارے درمیان لباس بشری میں تشریف لاۓ ھیں جبکہ انکی حقیقت و اصل سے ھم بالکل ویسے ھی معذور ادراک ھیں کہ جیسے کہ خود انکے خالق و رَبّ کہ جسکا تعارف انہی ذوّات مقدّسہؑ علیہم السّلام نے " اللہ " کہہ کر کروایا ھے ، کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ھیں کیونکہ ۔۔ 
اصُول یہ ھے کہ " مخلوق اپنے خالق کا احاطہؑ کر ھی نہیں سکتی " 
۔
اب ھمارا اصل امتحان اور حقیقی پُل صراط ھی یہ ھے کہ ۔۔۔
۔
" ھم انکو بشری لباس میں دیکھ کر اپنے اوپر قیاس بھی نہ کریں کہ یہ ھم جیسے ھیں اور چونکہ انکی حقیقت ھے ھی غیب ۔۔۔ 
اور غیب کہتے ھی اسکو ھیں جو نظر نہ آسکے ، تو جو نظر نہیں آۓ گا اسکا ادراک کیسے ممکن ھوسکتا ھے ؟؟ " 
اسلیئے ان کے بارے میں اپنے ذھنی ، تصّوراتی ، قیاسی اور ظنّی گھوڑے نہ دوڑائیں بلکہ اپنے آپ کو اس حد تک پابند کرلیں جہاں تک ان معصُومین علیہمُ السّلام نے اپنا تعارف خود کروایا ھے یا اپنی معرفت کے بحرزخّار میں سے چند قطرے عطاؑ فرماۓ ھیں " 
ھماری ذمّہ داری ھی یہ ھے کہ ھم انکو صرف تسلیم کریں 
انکی ھر بات کو تسلیم کریں 
جو کہیں کہ کرو وہ کریں 
جہاں سے روک دیں وھاں رک جائیں 
اگر یہ کہیں کہ ھمیں خدا نہ کہو ۔۔۔ تو بس ۔۔۔ انکو خدا نہ کہیں 
اور اگر یہ کہیں کہ ۔۔۔۔
" ھم ھی خدا کا دینے والا ھاتھ ، سننے والا کان ، دیکھنے والی آنکھ ھیں تو پھر ھم پر واجب ھے کہ ھم یہ ذھن میں رکھیں کہ اب انکا ربّ جسکو ھم اللہ جل شانہُ جانتے و مانتے ھیں اگر سنتا ھے تو انکے ذریعے ۔۔۔۔
دیکھتا ھے تو انکے ذریعے ۔۔۔۔
دیتا ھے تو انکے ذریعے ۔۔۔۔
لہذا ھمیں جو بھی عمل کرنا ھے اگر انکی ولائیت اس میں شامل نہیں تو وہ بیکار ھے 
جو بھی مانگنا ھے اگر انکے ذریعے نہیں تو وہ مردود ھے 
انکے ربّ کو پکارا ھے اور انکے ذریعے نہیں تو وہ پُکار عبث ھے "
یاد رکھیئے گا 
" پُل صراط " کوئ مادی پُل نہیں ھے کہ جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ھے بلکہ ۔۔۔
" پُل صراط " کی حقیقت ھی یہ ھے کہ ۔۔۔۔
" انکو جہاں تک بھی مان لیں جس اعلیٰ و ارفع مقام پر بھی لے جائیں وہ انکی حقیقت سے بُہت کم ھے اور پھر انکا خالق جسکو انہی معصُومین علیہمُ السّلام نے " اللہ جل شانہُ " کہہ کر ھمارے سامنے پیش کیا ھے ۔۔۔ 
اور وہ یقینناً ھے کیونکہ انہوں نے کہا ھے کہ وہ ھے ۔۔ 
تو وہ ان سے آگے ھے انکا ربّ ھے !
یہ بھی یاد رکھیئے گا کہ 
" مولا علی علیہ السّلام کو اللہ کہہ کر آپ نے انکی شان بڑھا نہیں دی بلکہ الٹا دو خطائیں کردیں ۔۔ 
1 - انکے منع کرنے کے باوجود انکو اللہ کہہ کر انکی حکم عدُولی کی 
2 - اس مقام کو جاننے کا دعویٰ کردیا جسکو آپ جانتے ھی نہیں اور وہ محض آپ کی سوچ اور عقل کی ھی حد ھے انکی پھر بھی نہیں ۔۔ !! 
اور اس طرح آپ نے موالی ھونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود لاعلمی میں مقصّرئیت کا ارتکاب کرلیا ۔ 
اس ساری تمہیدی گفتگو کا مقصّد محض یہ باور کروانا ھے کہ ۔۔ 
" ھمارے پاس کوئ اختیار نہیں کہ ھم ان معصُومین علیہمُ السّلام کے کیئے گۓ یا کہے گۓ کسی بھی عمل پر حرف اعتراض اٹھا سکیں یا " کیا ، کیوں اور کیسے ؟ " کہہ سکیں ۔۔
کیونکہ نہ تو ھم انکی حقیقت کو جانتے ھیں 
اور نہ ھی اتنی عقل رکھتے ھیں کہ 
یہ سمجھ سکیں کہ کون سا کام انہوں نے کیوں کیا ؟ 
جب یہ طے ھے کہ ھمیں انکو صرف ماننا ھے اور ان کی کہی ھر بات پر بھی صرف سر تسلیم خم کرنا ھے تو پھر حیل و حجّت کیوں ؟؟ 
اب آتا ھوں موضوع کی طرف ۔۔۔
جو سوال کیا گیا ھے اگر اس سوال کو کرنے کی وجہ و بنیاد سمجھ میں آجاۓ تو یقینناً پھر اسکا حل بھی سمجھ میں آسکے گا اور جواب ڈھونڈنے میں بھی آسانی ھوگی ۔۔۔ 
سوال کی جو وجہؑ بظاھر سمجھ میں آرھی ھے وہ یہ ھے کہ ۔۔
۔
" جبرائیلؑ ایک فرشتہ ھے اور فرشتوں نے تو حضرت آدمؑ کو سجدہ کیا تھا تو جب حضرت آدمؑ کو اجازت نہیں کہ ان مظاھر اللہ پاک و پاکیزہؑ اعلیٰ و ارفع ھستیوں (علیہم السّلام) کے قریب جاسکیں تو پھر جبرائیل تحت الکساء کیسے چلا گیا ؟؟ " 
۔
اس لیئے ضروری ھے کہ پہلے ھم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ جبرائیل علیہم السّلام کی حقیقت کیا ھے ؟؟
یہ میں واضح کردوں کہ جو کچھ بھی میں اب بیان کروں گا وہ ایک میری علمی و عقلی انتہا ھے حقیقت کیا ھے ؟ 
یہ صرف وہ (علیہمُ السّلام )جانتے ھیں جو خود اللہ جل شانہُ کا راز ھیں 
۔
آئیے پہلے دیکھتے ھیں کہ قرآن حضرت جبرائیل علیہ السّلام کا کیا تعارف کرواتا ھے ؟ 
۔
پہلی آئیت :
----------
بحوالہؑ سورۃ البقرہؑ آئیت نمبر 97 
" قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٝ نَزَّلَـهٝ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّـٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ "
ترجمہؑ : 
-------
" کہہ دوجو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو" ۔۔۔۔۔
سو اُسی ( جبرائیلؑ ) نے اتارا ہے وہ (سب ) اللہ کے حکم سے آپ (ﷺ) کے دل پر، ان کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے ہیں اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
۔
( اس آئیت مبارکہ سے جو باتیں واضح ھورھی ھے وہ یہ ھے کہ ۔۔۔
1 - لوگ جبرائیل علیہ السّلام کے دشمن ھیں ۔۔ ( لیکن اسکی وجہؑ ؟ ) 
2 - جبرائیل نے اللہ کے حکم سے جو کچھ بھی نازل کیا وہ " قلب رسالت مآب ﷺ " پر نازل کیا ۔۔ 
3 - یعنی جبرائیل علیہ السّلام کی قلب محمّد ﷺ تک رسائ ھے ) 
۔
دوسری آئیت :
-------------
بحوالہؑ سورۃ البقرہ آئیت نمبر 98 
" مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكَالَ فَاِنَّ اللّـٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِـرِيْنَ "
ترجمہؑ : 
-------
جو کوئ بھی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، تو بیشک اللہ بھی ان کافروں کا دشمن ہے۔
۔
( اس آئۃ مبارکہ سے جو کچھ ظاھر ھوتا ھے وہ کچھ یوں ھے کہ ۔۔
1 - کچھ لوگ ھیں جو اللہ کے دشمن ھیں 
2 - فرشتوں کے دشمن ھیں 
3 - اللہ کے بھیجے گۓ رسولوں کے دشمن ھیں 
4 - جبرائیل و میکائیل کے دشمن ھیں 
5 - اسی لیئے اللہ جل شانہُ ان منکروں کا دشمن ھے ۔ 
6 - اللہ جل شانہُ نے فرشتوں کا تذکرہؑ کردیا لیکن پھر بالخصوص جبرائیل و میکائیل کا تذکرہ دوبارہ کیا ( کیوں ؟ ) 
7 - رسولوں کا تذکرہؑ کیا لیکن پھر سرکار رسالت مآب ﷺ کا خاص تذکرہ نہیں کیا ( کیوں؟ )
8 - لوگ اللہ کے دشمن ھوسکتے ھیں ، رسولوں کی دشمنی سمجھ میں آتی ھے لیکن جبرائیل و میکائیل کیساتھ دشمنی بالخصوص کیوں ؟ 
9 - اگر جبرائیل و میکائیل علیہم السّلام مقرّب ھیں تو عزرائیل و اسرافیل بھی تو مقرّب فرشتے ھیں انکے ساتھ دشمنی کیوں نہیں ؟؟ ) 
۔
تیسری آئیت :
------------
بحوالہؑ سورۃ التحریم ۔۔ آئیت نمبر 4 
" اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّـٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُـمَا ۖ وَاِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّـٰهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْـرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْـنَ ۖ وَالْمَلَآئِكَـةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْـرٌ 
ترجمہؑ :
-------
اگر تم دونوں ( نبی ﷺ کی بیویاں ) اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو (بہتر) ورنہ تمہارے دل تو ٹیڑھے ہو ہی چکے ہیں، اور اگر تم آپ (ﷺ) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی ۔۔۔۔
تو بے شک اللہ آپ (ﷺ) کا مددگار ہے 
اور " جبرائیل " اور نیک بخت ایمان والے بھی، 
اور سب فرشتے اس کے بعد آپ (ﷺ) کے حامی ہیں
۔
( یہ آئیت مندرجہ ذیل باتیں بیان کر رھی ھے ۔۔۔
1 - نبی ﷺ کی دو بیویوں کے دل ٹیڑھے ھوگۓ ھیں جنکو توبہ کی وارننگ دی گئ 
2 - اور وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کیخلاف متحد ھیں اور ایک دوسرے کی مددگار بھی 
3 - اللہ جل شانہُ اُنہیں جتلا رھا ھے کہ اگر تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو پھر یاد رکھنا کہ رسوُل ﷺ کا مددگار اللہ ھے 
اور جبرائیل ھے 
اور صالح مومنین (علیہم السّلام ) ھیں 
اور پھر انکے بعد فرشتے بھی ھیں ۔۔ !! 
توّجہ فرمائ آپ نے ؟؟
اللہ نے جبرائیل کو اپنے بعد مددگار(مولا) کہا ھے جبکہ باقی فرشتوں کا تذکرہ آخر پر کیا ؟؟ کیوں ؟؟ 
آخر باقی فرشتوں اور جبرائیل میں فرق کیا ھے ؟؟ )
۔
آئیے اب ذرا اقوال معصُومین علیہمُ السّلام سے بھی جاننے کی کوشش کرتے ھیں کہ جبرائیل ھے کون ؟؟ 
اور اسکا مُقام کیا ھے ؟؟ 
اسکی خلقت کا مقصد کیا ھے ؟
اسکو اللہ جل شانہ نے کیا ذمّہ داریاں دے رکھی ھیں ؟
.
بحوالہؑ : علل الشرائع از شیخ صدوق (اردو) صفحہؑ نمبر 8-9
-------------------------------------------------------
شیخ صدوق ، احمد بن زیاد بن جعفر ھمدانی اور وہ اپنی اسناد کیساتھ حضرت امام جعفر الصّادق علیہ السّلام سے ایک طویل روائیت جو کہ جنگ احد کے بارے میں ھے کے ضمن میں لکھتے ھیں ۔۔ 
" ( کہ جب سب مسلمان رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گۓ )
تو حضرت علی علیہ السّلام کا یہ عالم تھا کہ ۔۔۔
جب مشرکین کا کوئ گروہ آنحضرت ﷺ پر حملہؑ کرتا تو یہ (علی علیہ السّلام) انکا مقابلہ کرتے اور مار بھگاتے اور ان میں سے اکثر قتل ھوتے یا زخمی ھوتے ۔۔
اسی اثناؑ میں حضرت علی علیہ السّلام کی تلوار ٹوٹ گئ 
تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ھوۓ اور عرض کی ۔۔
" یا رسول اللہ ﷺ آدمی اپنے اسلحہ کے ذریعے ھی تو جنگ کرتا ھے مگر میری تلوار ٹوٹ گئ "
یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے انہیں ذوالفقار عطاؑ فرمائ 
پھر وہ اسی تلوار سے آنحضرت ﷺ کا مسلسل دفاع کرتے رھے یہاں تک کہ سارے مشرکین شکست کھا کر بھاگ گۓ 
تو آنحضرت ﷺ پر حضرت جبرائیل علیہ السّلام نازل ھوۓ اور کہا ۔۔
" یا مُحمّد ﷺ اس وقت علی (علیہ السّلام ) نے آپ کیساتھ جو کام کیا اس کا نام مساوات اور ھمدردی ھے " 
آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔۔۔
" وہ (علیؑ) مجھ سے ھیں اور میں (محمّدؐ) اُن سے ھوں " 
جبرائیل علیہ السّلام نے کہا ۔۔ 
" اور میں آپ دونوں سے ھوں " اور لوگوں نے آسمان سے یہ آواز آتے ھوۓ سنی 
----------------------------
" لا سیف الّا ذوالفقار و لافتیٰ الّا علی " 
۔
( آپ نے توّجہ فرمائ ؟؟ 
جبرائیلؑ نے کیا کہا ؟؟ 
" میں آپ دونوں یعنی رسول اللہ ﷺ اور سرکار جناب امیرالمومنین علیہ السّلام سے ھوں " 
اس سے زیادہ میں ابھی اور اس پر تبصرہ نہیں کروں گا بلکہ آپکی عقلی ، علمی اور ذھنی استعداد پر چھوڑتا ھوں ) 
۔
اور یہ بات کون سا ایسا شیعہؑ ھے جو نہیں جانتا کہ ۔۔
" سرکار رسالت مآب ﷺ پر وحی صرف جبرائیل علیہ السّلام لے کر نازل نہیں ھوتے تھے لیکن یہ کہ حضرت جبرائیلؑ کی مخصوصیت یہ تھی کہ وہ جب بھی آۓ ۔۔ 
تو جو وحی وہ لے کر آۓ وہ " ولائیت جناب امیرالمومنین علیہ السّلام سے متعلق تھی " 
کون نہیں جانتا کہ اس خانوادہؑ اھلبیت علیہم السّلام میں سب سے زیادہ آمد و رفت حضرت جبرائیلؑ کی رھی 
کبھی چکی چلانے کیلیئے 
کبھی جھولا جھلانے کیلیئے 
کبھی دروازے پر یتیم ، مسکین اور اسیر کے روپ میں صدا دینے کیلیئے ؟
۔
اب آئیے ذرا ایک اور پہلوُ سے بھی توّجہ فرمائیے کہ جبرائیل ھے کیا ؟ اسکا مقام کیا ھے اور شائد اس طریقے سے آپکو اندازہ ھوسکے کہ حقیقت جبرائیلؑ ھے کیا ؟؟
۔
جبرائیل کے معنی 
----------------
پہلے ذرا یہ بھی سمجھیئے کہ جبرائیل کیا کوئ مجسّم شۓ کا نام ھے یا یہ صرف ایک اصطلاح ھے ؟؟ 
اسلام کی دیگر خوبصورت اصطلاحات کی طرح لفظ جبرائیل بھی اصل میں ایک اصطلاح ہے۔ 
جبرائیل کوئی مشخص و مجسم فرستادہ یا چیز نہیں بلکہ محض ایک اچھوتا لفظ ہے، خوبصورت اصطلاح ہے۔ 
مولوی ہر لفظ کو مشخص اور ہر اصطلاح کو مجسم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جیسے قرآن میں " ساق " کا لفظ جسکا مطلب " پنڈلی یا ستون " ھے کو پڑھ کر کچھ لوگوں کا ایمان ھے کہ روز محشر اللہ اپنی پنڈلی سے حجاب اٹھاۓ گا جسے دیکھ کر سب اسے پہچان لیں گے ؟؟ ( العیاذ باللہ ) 
اور یہاں بھی حسب معمول اور حسب توقع انہوں نے روایتی ٹھوکر کھائی۔ چاھے وہ اپنے ھوں یا غیر ؟؟ 
اس لفظ کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی ہم اس لفظ کو اصطلاح یا فرستادہ قرار دینے کی بہتر پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ 
تاہم ایک بات بطور خاص ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ھم جب بھی کوئی مصطفٰے، مسیحا، یا کسی اہم موضوع کی وضاحت کے لیے کوئی خاص لفظ استعمال کرتے ہیں ۔۔۔
تو وہ محض ایک لفظ نہیں ہوتا بلکہ اس موضوع کی پوری تفصیل اس ایک لفظ میں سمیٹ دی گئی ہوتی ہے اور خاص لفظ کے استعمال کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے کسی لفظ کو اصطلاح کہنا مناسب ہوتا ہے، 
جیسے بہار ، اپنے اندر سب کچھ سمیٹے ھے صرف بہار کہنے سے سمجھ میں آجاتا ھے کہ اس موسم میں کیا کیا ھوتا ھے ؟؟ 
اسی طرح جنّت ، جہنم وغیرہ 
۔
اس لفظ جبرائیل کے تجزیہ میں یہ بات بھی بخوبی ہی واضح ہو جائیگی۔ تو چلیں لفظ جبرائیل کو سمجھتے ہیں۔
۔
جبرائیل ایک لفظ نہیں بلکہ دو الفاظ " الجبر " اور " ایل " کا مجموعہ ہے ۔ 
جبرائیل کا عمومی مصدر " الجبر " بتایا جاتا ہے ۔۔
۔
جس کا مطلب '' ٹوٹے ہوئے کی درستی'' ہے۔
۔
عربی لغت میں " جبر" کا مطلب " ٹوٹی ہوئی ہڈی درست کرنا یا ہونا '' ہے۔ 
ہڈیاں جوڑنے کا پیشہ " جبار " کہلاتا ہے 
ٹوٹی ہوئی ہڈی پر باندھنے والی لکڑی، تختی یا پٹی کو " جبیرہ " کہتے ہیں۔ 
جابر اور مجبور بھی اسی الجبر سے ماخوذ ہیں
۔
جبرائیل کا دوسرا جزوی لفظ ایک، " اَل یا اِل ہے۔" 
۔
یہ ایل، اَل یا اِل تقریبا ہر قدیم زبان میں پایا جاتا ہے 
اور تقریبا ہر زبان میں اس کا مطلب " بائنڈنگ فورس یعنی باندھنے، جوڑنے، ایک کرنے، واحد کرنے والی قوت، طاقت، صلاحیت بنتا ہے، " 
۔
اسے قوت بندھن یا قوت واحدہ بھی کہا جاسکتا ہے، 
وسیع تر معنوں میں یہ قوت جاذبہ بھی کہلائی جاسکتی ہے۔ 
۔
ایک نقطہؑ یہ بھی یاد رکھیئے گا کہ ۔۔۔ 
" اِلٰہ، اَلہَ، اللہ، اِلٰہی، اَلٰہیہ جیسے الفاظ کا ماخذ و مصدر یہی ایل، اَل، اِل، بائنڈنگ فورس یا قوت واحدہ یا جاذبہ ہے۔" 
یعنی یہ کوئ جسم نہیں ھے بلکہ ایک طاقت ھے جو " جبیر " ھے 
ملانے والی طاقت ۔۔ !! 
معصُومین علیہمُ السّلام نے ھمیں جو اپنے ربّ کا تعارف اسم " اللہ " سے کروایا ھے اسکی علّت و وجہ یہی ھے 
ورنہ یقینناً آپ کے اذھان عالیہ میں مولا جناب امیرالمومنین علیہ السّلام کا یہ جملہ ضرور بالضرور موجود ھوگا جو انہوں نے توحید بیان کرتے ھوۓ فرمایا ھے کہ ۔۔
۔
" اس پر (یعنی ان معصُومین علیہمُ السّلام کے خالق پر ) کسی اسم کا اطلاق نہیں ھوتا ، یہ اسم اللہ بھی تمہیں اس لئیے بتایا گیا تاکہ تم اسکی معرفت حاصل کرسکو کیونکہ اگر اسکا اسم نہ بتاتے تو تم اسکی معرفت حاصل نہیں کرسکتے تھے " 
اور یہی وجہ ھے قرآن میں صرف ایک سورۃ ھے جو مخصوص ھے توحید کیلیئے اور اسی وجہ سے اسکا نام بھی سورۃ توحید یا اخلاص رکھا گیا ھے 
اس میں پہلی آئیت میں 
" قل کے بعد ھُوَ " کا مقسد ھی یہ ھے کہ وہ جسے تم اللہ کہتے ھو ، جانتے اور مانتے ھو وہ احد ھے " 
۔
اور اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ھے کہ عربی اصطلاح میں جب کسی لفظ کیساتھ ۔۔
" الف اور لام یعنی ال " لگتا ھے تو وہ خاص و مخصوص ھوجاتا ھے 
جیسے " الکتاب " الخصام " العبد " القرآن " النبی " وغیرہ " 
ایک بات اور سمجھیئے 
جو انتہائ اھم ھے ۔۔
یہی " ال " اگر آخر میں ھو تو یہ بندے کی اپنے مرکز حقیقی یعنی خدا کی طرف پہنچنے کی طاقت ھے جیسے جبرائیل ، میکائیل وغیرہ 
لیکن اگر انتخاب مرکز یعنی اللہ کی طرف سے ھو تو " ال " آغاز میں آۓ گا جسکی امثال میں اوپر دے چکا ھوں ۔ یعنی النبی ، الکتاب وغیرہ
۔
اس سے زیادہ مزید کچھ کہنا فی الحال مناسب نہیں ۔ 
۔
اگر یہاں تک آپکو سمجھ آگئ ھے تو میں اسکو مختصراً اس طرح بیان کروں گا کہ ۔۔ 
۔
" جبرائیل دراصل ایک طاقت ھے جو دو الگ الگ ایک جیسے حصّوں کو آپس میں ملتے وقت ظہور میں آتی ھے ۔۔۔۔
بالکل ویسے ھی جیسے اگر انسان کے بازو یا ٹانگ کی ھڈی اگر ٹوٹ جاۓ تو وہ دو حصوں میں بٹ جاتی ھے 
جبکہ " جبار " یعنی ھڈی جوڑنے والا صرف ان دونوں حصّوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر انکی پہلے سے بنی اصلی جگہ پر رکھتا ھے جبکہ اسکے بعد وھی دونوں حصّے پھر سے ایک ھونے کیلیئے اپنا عمل از خود شروع کردیتے ھیں " 
اس کو وسیلہؑ بھی کہہ سکتے ھیں ، ذریعہؑ بھی کہہ سکتے ھیں اور یہ ایک اصطلاح ھے نہ کہ کوئ وجوُد جو کہ جسم و جسمانیات کے ساتھ موجود ھو 
۔
امید کرتا ھوں کہ میری بات سمجھ میں آگئ ھوگی انشاءاللہ 
اب آجائیے حدیث کساء پر ۔۔۔
ذرا ترتیب دیکھیئے اور تصّور میں نقشہ بناتے جائیے 
۔
1 - سرکار رسالت مآب ﷺ تحت کساء ھیں 
2 - سرکار حسن علیہ السّلام تشریف لاۓ اور تحت کساء آگۓ 
3 - سرکار حسین علیہ السّلام تشریف لاۓ اور تحت کساء آگۓ 
4 - جناب امیرالمومنین علیہ السّلام تشریف لاۓ اور وہ بھی تحت کساء تشریف لاۓ 
5 - مخدومہؑ کائنات عصمت اللہ و حجاب اکبر الہٰیہ سلام اللہ علیہا تشریف لائیں اور تحت کساء آگئیں 
۔
ذرا تصّور کی آنکھ سے دیکھیئے اور بتائیے کہ کیا منظر ھے چادر کے نیچے ؟؟ 
کس ترتیب سے ھیں یہ انوار الہٰیہ ؟؟ 
کیا ایک خیمہؑ کی شکل ھے جس میں سب بیٹھے ھیں ؟
یا پہلوُ بہ پہلوُ لیٹے ھوۓ ھیں ؟؟
اب ذرا یہ بتائیے کہ ۔۔
کیا جبرائیل ان سے واقف نہیں ؟؟
اگر اسی گھر کی نوکری کررھا ھے تو پھر اللہ جل شانہُ سے کیوں پوچھ رھا ھے کہ تحت الکساء کون ھیں ؟؟
یقینناً کچھ ایسا ھوا ھے اس چادر کے نیچے کہ جس نے جبرائیل کی بصارت کو چندھیا دیا ھے اور وہ دیکھنے اور سمجھنے سے معذور ھوگیا ھے ؟؟ 
کیا آپ نے کبھی 5 جلتے ھوۓ چراغ الگ الگ دیکھے ھیں ؟؟ 
اگر ان چراغوں کو اس انداز میں رکھ دیا جاۓ کہ انکی لوَ آپس میں جڑ جاۓ تو ۔۔۔ 
کیا آپ کیلیئے یہ شناخت ممکن رہ جاۓ گی کہ اس ایک لوَ کا کون سا حصّہ کس چراغ کی لوَ کا ھے ؟؟ 
اگر نہیں تو پھر بتائیے کہ اب جبرائیل بیچارہ کیا کرے ؟؟ 
اسکا پوچھنا تو بنتا ھی ھے 
کیونکہ یہی پانچ جب اپنی اصلی شکل میں عرش پر تھے تو جبرائیل کو وھاں بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ " اللہ ھیں یا اسکی مخلوق ؟ " 
وہ تو شکر گزار ھے ان ذوّات مقدّسہ کا کہ جب جبرائیل سمیت سب فرشتوں نے انہیں خدا سمجھ کر جھکنا چاھا 
تو انہوں نے اپنے خالق کو سجدہ کردیا اور تسبیح و تقدیس بجا لائ جسکو سیکھ کر جبرائیل اور باقی تمام فرشتے حقیقی خدا کی معرفت حاصل کرسکے ۔۔ 
پھر جبرائیل نے خالق سے اجازت مانگی نیچے آکر اور چادر کے اندر آکر ان انوار الہٰیہ کی زیارت کرنے کی جو اسکو عطاء ھوئ 
لیکن جب وہ اسی چادر کے قریب پہنچا تو بڑی اتھارٹی سے اجازت ملنے کے باوجود ٹھٹھک کر رک گیا ( وجہؑ میں اوپر بیان کرچکا ھوں ) 
اور دوبارہ ان علیہم السّلام سے اجازت مانگی 
اور جب اجازت مل گئ تو اندر آکر جو آئیت پڑھی اسکو قرآن نے اپنے سینے میں محفوظ کیا ھے جو کہ یہ ھے 
" انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیراً " 
۔
سوال تو بنتا ھے کہ جناب حضرت جبرائیل صاحب 
یہ آئیت آپ چادر سے باھر بھی تو تلاوت فرما سکتے تھے ؟؟
آخر یہ اندر آکر ھی کیوں تلاوت فرمائ ؟؟
تو جبرائیل کا بلا مبالغہ جواب کچھ یوں آۓ گا 
" اگر چادر کے باھر تلاوت کردیتا تو اس گھر میں جتنے بھی لوگ تھے سب اس میں شامل کردیتے تم لوگ ۔۔
کیونکہ لفظ " اھل البیت " تھا 
چادر کے اندر تلاوت ھی اس لیئے کی کہ لاکھ کوشش کے باوجود ان پانچ میں اور انکی آل میں کوئ چھٹا شامل نہ ھوسکے اور تخصیص ھوجاۓ کہ یہ جو چادر کا گھر بنا ھے بس اسکے اندر جو ھیں یہ آئیت صرف انہی کیلیئے ھے " 
۔
کچھ سمجھ میں آیا معزز قارئین ؟؟ 
میں نے کوشش کی ھے کہ آپکو حقیقت جبرائیل سے متعارف کرواتے ھوۓ انکے تحت الکساء آنے کی علّت سمجھا سکوں
رھی بات یہ کہ حجاب اکبر الہٰیہ مخدومہؑ کونین سلام اللہ علیہا بھی چادر میں موجود ھین تو جناب اگر آپکو میری چراغوں والی مثال سمجھ میں آگئ ھے تو آپکو اپنے سوال کا جواب یقینناً مل گیا ھوگا ۔
میں یہ قطعاً دعویٰ نہیں کر رھا کہ جو کچھ میں نے پیش کیا ھے بس یہی حقیقت ھے اور اسی کو تسلیم کیا جاۓ 
کیونکہ حقیقت کا علم تو صرف ھادیان برحق کو ھے 
جو وارثان علم ھیں 
۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر اس سے بہتر کوئ دلیل میرے سامنے پیش کی جاۓ تو میں ضرور قبول کروں گا کہ میری معروضات حرف آخر نہیں ھیں  

میں نے اپنی علمی استعداد و تحقیق کے مطابق حجّت تمام کی ۔۔ !!

تحقیق و تحریر : سیّد حسنین حیدر کاظمی 

 

12821546_984139841633870_6527199549340920318_n.png

Share this post


Link to post
Share on other sites
Admin

mashallah

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

Footer title

This content can be configured within your theme settings in your ACP. You can add any HTML including images, paragraphs and lists.

Footer title

This is an example of a list.

Footer title

This content can be configured within your theme settings in your ACP. You can add any HTML including images, paragraphs and lists.

Footer title

This content can be configured within your theme settings in your ACP. You can add any HTML including images, paragraphs and lists.

×