Welcome to Shiaforum.net

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 06/14/2016 in all areas

  1. 2 points

    Version 1.0.0

    10 downloads

    Shia Namaz and Wazoo Ka Tareeqa
  2. 1 point
  3. 1 point
  4. 1 point
    جنابِ سیدہ کی فریادفاطمہ زہرا علیہاالسلام فریاد کرنے لگیں، اے بابا، اے خدا کے رسول (ص)۔ عمر بن خطاب نے ان کو ہٹانے کیلئے الٹی تلوار ان کے پہلو پر ماری۔ سیدہؑ نے پھر فریاد کی ہائے میرے بابا، عمر بن خطاب نے کوڑا ان کے ہاتھ پر مارا۔ سیدہؑ نے پھر فریاد بلند کی۔ یا رسول اللہ (ص) آپ کے بعد ابوبکر و عمر نے کس قدر بُرا سلوک کیا ہے۔ جناب حضرت علیؑ نے دوڑ کر عمر بن خطاب کو گریبان سے پکڑا اور اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ جس سے اس کی ناک اور گردن زخمی ہوئی۔ قتل کرنا ہی چاہتے تھے کہ آنحضرت (ص) کی وصیت یاد آگئی۔ جو آُپ نے جناب علیؑ کو صبر کرنے کی وصیت کی تھی۔ جناب حضرت علیؑ نے فرمایا، اے ابن ضحاک، اللہ تعالیٰ کی قسم جس نے محمد (ص) کو نبوت بخشی ہے۔ اگر خدا کا لکھا ہوا اور اگر رسول اللہ (ص) کا مجھ سے عہد نہ ہوتا تو تم دیکھ لیتے کہ میرے گھر میں گھس نہیں سکتے تھے۔ عمر ابن خطاب نے لوگوں کو آواز دی تو لوگ ان کی مدد کو اندر گھس آئے، جناب حضرت علیؑ نے اپنی تلوار کی طرف رخ کیا۔ لوگوں نے جناب حضرت علیؑ کو ہر طرف سے گھیر کر گلے میں کپڑا ڈال کر بے بس کردیا۔ یہ دیکھ کر دروازے کے قریب جناب فاطمہ علیہا السلام درمیان میں آگئیں۔ قنفذ ملعون نے ان کے بازو پر اتنے زور سے کوڑا مارا کہ وفات کے وقت بھی گومڑ موجود رہا۔ یہ لوگ جناب امیرؑ کو نکال کر ابو بکر بن قحافہ کے پاس لیگئے، عمر بن خطاب تلوار نکال کر حضرت علیؑ کے سر پر کھڑے ہوگئے وہاں پہلے سے خالد بن ولید، ابو عبیدہ جراح، ابو حذیفہ کا غلام سالم، معاذ بن ببل، مغیرہ بن شیبہ، بشیر بن سعد اور دوسرے تمام لوگ ابوبکر بن قحافہ کے پاس ہتھیار لگائے موجود تھے۔ سلیمؓ بن قیس ہلالی نے سلمانؓ فارسی سے پوچھا یہ کیا واقعہ ہے؟ کیا یہ لوگ واقعی جنابِ سیدہؑ کے گھر بلا اجازت داخل ہوگئے تھے؟۔ سلمانؓ فارسی نے کہا اللہ کی قسم وہ اندر چلے گئے تھے اور جنابِ سیدہؑ فرما رہی تھیں اے اللہ کے رسول (ص) آُپ کے بعد ابو بکر بن قحافہ و عمر نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا، ابھی تو آُپ کی آنکھیں بھی قبر میں بند نہ ہوئی تھیں، قنفذ نے جنابِ فاطمہ علیہاالسلام کو کوڑا مارنے کے بعد اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ گِر کر ان کی پسلی ٹوٹ گئی تھی اور جناب محسنؑ کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ وہ صاحب فراش ہوگئیں اور انہی زخموں کی وجہ سے شہید ہوئیں۔ ان پر اللہ کا درود و سلام ہو اور ان کے قاتلین پر اللہ کی لعنت ہو۔ کتاب سلیمؓ بن قیس ہلالی (متوفی ۷۰ ھ)
  5. 1 point
  6. 1 point

    Version 1.0.0

    2 downloads

    Aalam e Barzakh
  7. 1 point
    ضریح امیرالمومنینؑ کی نورافشانی اور دروازہِ نجف کا کھلنانیز جناب شیخ محمد حسین موصوف سے نقل فرمایا ہے کہ ایک شب دوگھنٹے رات گئے میں ترشی(اچار) خریدنے کے لئے گھر سے باہر نکلا اور ترشی فروش کی دوکان شہر کی دیوار سےقریب ہی تھی۔(سابق زمانے میں شہر نجف اشرف کے گرِد حصاراور اس میں ایک دروازہ تھا یہ دروازہ بڑے بازار سے متصل،بڑابار صحن مقدس کے دروازے سے متصل اورصحن مقدس کا دروازہ اس طرح سے ایوان طلا اور دروازہ رواق کے مقا بل تھا کہ اگر تمام دروازے کھلے ہوتے تو ایک شخص اس دروازہ شہر سے ضریح اقدس کو دیکھ سکتا تھا۔) شیخ کہتے ہیں میں نے وہاں سے گزرتے ہوئے سنا کہ چند اشخاص دروازے کے پیچھے سے دروازہ پیٹ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں (یَاعَلیؑ اَنت فک الباب) یعنی یاعلیؑ آپ دروازہ کھول دیجئے اور پہرہ دار لوگ اس پر کوئی توجہ نہیں کر رہےتھے۔ کیونکہ جب وہ رات شروع ہوتے ہی دروازہ بند کر دیتے تھے تو صبح تک اس کا کھولنا ممنوع تھا۔شیخ موصوف آگے بڑھ گئے اور ترشی خریدنے کے بعد واپس ہوتے ہوئے دروازے کے پاس پہونچے تو اس بار سنا کہ جو زائر ین دروازے کی پشت پر تھےسخت نالہ و فریاد کر ہے تھے اور پاؤں کو شدت سے زمین پرٹپکتے ہوئے عرض کر رہے تھے کہ یا علیؑ دروازہ کھولئے شیخ اپنی پشت دیوار سے لگا کرآنکھ کی داہنی جانب سے دروازے کو دیکھ رہے تھے ایکیار دیکھتے ہیں کہ قبر مبارک کی طرف سے نارنگی کے برابر آبی رنگ کا یک نور خارج ہوا اس میں دوطرح کی حرکت تھی ایک اپنے گرِد اوردوسری صحن اور بڑے بازار کی جانب،اور وہ پورے سکون و وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ اور شیخ بھی پوری کوشش سے اس پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔وہ انتہائی آرام کے ساتھ آہستہ آہستہ شیخ کے سامنے سے گزرتا ہوا دروازے سے ٹکرایا۔ دفعتا‏ؕ۠ؓ‌‬ۜ‭‮‪دروازہ اور اس کا چوکھٹا دیوار سے اکھڑ کر زمین پر گر پڑا۔اور وہ عرب لوگ انتہائی مسرت اور شادمانی کے ساتھ شہرمیں داخل ہوئے چھٹی ساتویں اور آٹھویں داستان سے اکثر اہل نجف بالخصوص اہل علم حضرات واقف ہیں۔اور ابھی بعض علماء جنھوں نے مرحوم محمد حسینؑ کو دیکھااور ان مطالب کو بلاواسطہ ان کی زبان سے سنا ہے بقید حیات ہیں اگر ان نقل کرنے والوں کے نام نقل کئے جائیں تو بلا ضرورت طول دینا پڑ ے گا۔
  8. 1 point

    Version 1.0.0

    12 downloads

    14 sitaray is a book based on seerat of 14 masoomeen (a.s)

Welcome To Shia Forum

At Ajareresalat.net, we have one unifying goal: to seek out the Truth. We welcome individuals from all walks of life and and there exists a diverse mix of cultures and ideologies amongst our members.